نئی دہلی، 29/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں یعنی لوک سبھا میں انڈیا بلاک کے فلور لیڈرس کی تقرری ہو گئی ہے۔ انڈیا بلاک کی ۲۰؍ پارٹیوں کے فلور لیڈرس بنائے گئے ہیں اور سبھی نام اہم ہیں۔ دراصل یہ فلور لیڈرس اسپیکر کے ساتھ ہونے والی بی اے سی کی میٹنگ میں حصہ لیتے ہیں اور آپس میں بہتر تال میل کے لئے بھی کام کرتے ہیں۔ لوک سبھا کے لئے مقرر یہ سبھی فلور لیڈرس اب اپوزیشن کی مشترکہ پالیسی طے کرنے میں اہم کردار نبھائیں گے۔
لو ک سبھا میں اپوزیشن کی جن 20 پارٹیوں کے فلور لیڈرس کی تقرری ہوئی ہے، ان میں کانگریس کی طرف سے راہل گاندھی کے علاوہ کے سی وینوگوپال اور گورو گوگوئی شامل ہیں۔ سماجوادی پارٹی کی طرف سے اکھلیش یادو فلور لیڈر ہوں گے، جبکہ ڈی ایم کے کی طرف سے ٹی آر بالو اور ٹی ایم سی کی طرف سے سدیپ بندوپادھیائے کو فلور لیڈر کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ دیگر پارٹیوں کے فلور لیڈرس کی بات کریں تو شیوسینا (ادھو) نے اروند ساونت کو، این سی پی (شرد پوار) نے سپریا سلے کو، نیشنل کانفرنس نے میاں الطاف احمد کو، سی پی ایم نے رادھاکرشنن کو، آئی یو ایم ایل نے ای ٹی محمد بشیر کو، سی پی آئی نے سبارائن کو، آر ایس پی نے این کے پریم چندرن کو، جے ایم ایم نے وجئے کمار ہنسڈک کو، وی سی کے نے ٹی تھولکاپین کو، کے ای سی نے فرانسس جارج کو، عام آدمی پارٹی نے گرمیت سنگھ میت کو، آر جے ڈی نے سریندر پرساد یادو کو، ایم ڈی ایم کے نے کے ڈی وائیکو کو، سی پی آئی ایم ایل نے راجہ رام سنگھ کو، بی اے پی نے راج کمار روٹ کو اور این ایل پی نے ہنومان بینی و ال کو فلور لیڈر مقرر کیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ کانگریس پارٹی کے فلور لیڈر کے ساتھ ہی راہل گاندھی لوک سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر بھی ہیں۔ یہ پہلی بار ہے جب وہ کسی آئینی عہدہ پر فائز ہوئے ہیں۔ راہل گاندھی کے سیاسی کیریئر کے لحاظ سے یہ مرحلہ انتہائی اہم ہے۔ اپوزیشن لیڈر کے طور پر وہ آئندہ پانچ سال تک حکومت کی کارگزاری کا تجزیہ کر تے رہیں گے۔